29 دسمبر 2013 - 20:30
شام کی صورتحال اور جنیوا ٹو کانفرنس

حالات حاضرہ پر مشتمل پروگرام گشت و گذار کے سامعین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔آج کے پروگرام میں ہم شام کی صورتحال اور جنیوا ٹو کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔

ابنا: ان دنوں جنیوا ٹو کانفرنس کے پیش نظر شام کا بحران موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں ان میں شام کے اندر کیماوی ہتھیاروں کو مکمل طور پر تلف کرنا یا انہیں شام سے باہر لے جا کر ختم کرنا شامل ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جنیوا ٹو کانفرنس کے انعقاد میں ایک ماہ سے کم کا عرصہ باقی رہ گیا ہے اور اس سلسلے میں اقدامات اور صلاح و مشورے حساس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ بحران شام کے حل میں مدد دینے کے لیے اس کانفرنس میں ایران کی شرکت پر زور ان سیاسی کوششوں کا ایک اصلی محور ہے۔ ہمارے ساتھی نے اسی موضوع پر شام کے امور کے ماہر شفقت شیرازی سے رابطہ قائم کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایران کا کہنا ہے کہ شام کا بحران مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتاہے۔ جبکہ شام میں کیماوی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر شام کے خلاف دھشتگردی کی گئی اور کئی ممالک دھشتگردی اور دھشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اب جبکہ کیماوی ہتھیاروں کو تلف کیا جا رہا ہے تو پھر شام میں دھشتگردی کیوں ہو رہی ہے۔شام کے بارے میں ایران کا نقطۂ نظر کئی پہلوؤں سے اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی پہلو سے ایران شام میں کسی بھی فوجی اقدام کا مخالف ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس بحران کی واحد راہ حل بین الاقوامی حمایت سے شامی فریقوں کے باہمی مذاکرات ہیں۔ اسی بنا پر ایران جنیوا ٹو کانفرنس کو بحران شام کے حل کے لیے ایک سیاسی راہ حل کے قریب پہنچنے کا ایک موقع سمجھتا ہے اور اس نے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ بحران شام کے حل میں مدد دینے کے لیے دوسری بحث شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کو ختم کرنے کا مسئلہ ہے۔ ایران ان اولین ملکوں میں شامل ہے کہ جنہوں نے شام کے اندر اور باہر اس کے کیمیاوی ہتھیاروں کو تباہ کرنے پر زور دیا اور اس سلسلے میں اس نے عملی قدم بھی اٹھائے ہیں۔ ایران نے کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن پر عمل درآمد میں فنی اور تکنیکی تجربات کے پیش نظر اس سلسلے میں شام کو اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اور جسطرح ابھی شام کے امور کے ماہر شفقت شیرازی نے کہا کہ تکفیری اور دھشتگرد شام کے حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنا چاہتے ہیں اور سعودی عرب اس تمام صورتحال میں پیش پیش ہے۔ در اصل سعودی عرب تکفیری نظریات کو پروان چڑھا نے کیلئے سادہ لو افراد کو استعمال کرتا ہے اور اسی مقصد کیلئے اب شام میں جیش الاسلام نامی دھشتگرد تنظیم کی داغ بیل ڈالی جس کیلئے سعودی عرب نے کئی ملین ڈالر بجٹ مختص کیا ہے۔ اس دھشتگرد تنظیم کے افراد کو پاکستان دھشتگردی کی ٹریننگ دیتا ہے اور اس کا مالی بجٹ سعودی عرب کے سر ہے۔ جبکہ سعودی عرب کے وزیرانٹیلی جنس بندر بن سلطان اس نیٹ ورک کا کرتا دھرتا ہے۔جب سے شام کے بحران کے حل کیلئے جنیوا ٹو کانفرنس اور مذاکرات کی بات سامنے آئی ہے اور عالمی سطح پر اس کانفرنس کی حمایت کی گئی ہے۔ تو سعودی عرب سمیت کئی عرب اور مغربی ممالک اپنے مقاصد کے حصول کیلئے شام کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دھشتگرد گروہ جیش الاسلام کی تشکیل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی شام کے حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں اور عراق سے ملنے والی سرحد سے دھشتگردوں کی آمد کا سلسلہ بھی تقریبا رک گیا ہے جس کیوجہ سے شامی دھشتگردوں کو منہ کی کھانی پڑی اور گذشتہ روز بھی200دھشتگردوں کو شامی فوج نے ہلاک اور 70کوگرفتار کر لیا۔ جبکہ کئی علاقوں کو دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے صاف کر دیا گیا۔ادھر عراق و شام میں اسلامی حکومت نامی دھشتگرد گروہ "داعش" اور "آزاد آرمی" و "جبھتہ النصرہ" دھشتگرد گروہوں کے درمیان اختلافات بڑھتے جارہے ہیں اور ان اختلافات کا دائرہ اب شام کے شمال مغربی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق جبھہ النصر اور آزاد آرمی نامی دھشتگرد گروہوں نے داعش نامی دھشتگرد گرد گروہ پر الزام لگایا ہے کہ اس گروہ کے عناصر نے آزاد آرمی کے ایک کمانڈر " احمد السعود " کو علاقے میں مذاکرات کے لئے جاتے وقت شام کے شمال مغرب میں واقع علاقے ادلب سے اغواء کرلیا ہے۔ ادھر شام کے صوبے حماہ میں " معرہ النعمان کے مجاہدین کی فوجی کونسل ' اور " انقلابی فوجی کونسل " نے اپنے ایک بیان میں دھشتگرد گروہ " داعش " سے کہا ہے کہ اپنے آپسی اختلافات کو ختم کرے۔ اس بیان میں "داعش" کے عناصر کی جانب سے اغواء اور آزاد آرمی کے کمانڈروں پر حملے کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور شام مخالف گروہوں سے درخواست کی گئی ہے کہ آپسی اختلافات کو فوری طور پر ختم کریں۔ دوسری جانب شام کے شمال مشرقی علاقے " رقہ " میں جبھتہ النصرہ نے اپنے ایک بیان میں شرعی کونسل اور جنگجو گروہوں اور دھشتگرد سرغنوں سے درخواست کی ہے کہ " داعش " گروہ کے عناصر کی جانب سے تین ماہ قبل اغواء کیئے جانے والے ان کے ایک کمانڈر کی رہائی کے لئے کوشش کریں۔ دھشتگرد گروہ جبھتہ ا لنصرہ نے اپنے اس بیان میں تاکید کی ہے کہ "داعش" گروہ کے عناصر ان کے کمانڈر " ابو سعد الحضرمی " کو رہا کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں،  دھشتگرد گروہ جبھتہ ا لنصرہ کے بیان میں شام میں سرگرم دھشتگرد گروہوں کے درمیان باہمی اختلافات اور آپسی جھڑپوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس خونریزی کو فوری طور پر بند کیئے جانے کے لئے کوششیں کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ شام کے امور کے ماہر شفقت شیرازی کے بقول شام میں تکفیری اور دھشتگرد گروہوں کے اختلافات جنیوا ٹو کانفرنس کے بعد مزید گہرے ہو جائیں گے اس لئے کہ تکفیری اور دھشتگرد گروہ جنیوا ٹو کانفرنس سے پہلے شام کے حالات کو خراب کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا ذور لگائیں گے تاکہ عالمی سطح پر اپنی موجودگی دکھا کر مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہو سکیں۔ لیکن جس تیزی سے شامی فوج کو دھشتگردوں اور تکفیریوں کے مقابلے میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں اس سے بخوبی دکھائی دیتا ہے کہ شامی دھشتگرد اپنی زندگی کی آخری سانس لے رہے ہیں اور بہت جلد شام میں ان کا نا پاک وجود کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور شامی عوام سکھ کا سانس لیں گے۔......./169